پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ روس سے تیل خریدنا بند کریں تاکہ ماسکو پر اقتصادی دباؤ بڑھایا جا سکے اور جنگ رکنے کی کوئی صورت نکلے۔ اس موقع پر جب برطانیہ کی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی پالیسی پر سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس فیصلے سے متفق نہیں اور یہ دونوں ملکوں کے درمیان چند پالیسی اختلافات میں سے ایک ہے۔
امیگریشن کے موضوع پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے برطانیہ کی پالیسی پر تنقید کی اور کہا کہ اگر وہ برطانیہ کے وزیرِاعظم ہوتے تو غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے فوج کا استعمال کرتے۔ تاہم ان تمام اختلافات کے باوجود، انہوں نے امریکا اور برطانیہ کے تعلقات کو "ناقابلِ شکست رشتہ” قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک عالمی سطح پر قریبی شراکت دار ہیں۔
پریس کانفرنس کے آخر میں یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں ممالک نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس میں امریکی ٹیک کمپنیوں کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔
]]>آئی اے ای اے کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، یہ کنٹری پروگرام فریم ورک (CPF) پاکستان کے ساتھ کیا جانے والا پانچواں معاہدہ ہے، جس کے تحت جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے دو طرفہ تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
معاہدے پر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور اور آئی اے ای اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل و سربراہ محکمہ برائے تکنیکی تعاون نے دستخط کیے۔
نئے فریم ورک کے تحت مندرجہ ذیل پانچ کلیدی شعبوں میں باہمی اشتراک کیا جائے گا:
1. خوراک اور زراعت
2. انسانی صحت اور غذائیت
3. ماحولیاتی تبدیلی اور آبی وسائل کا انتظام
4. جوہری توانائی
5. تابکاری اور جوہری تحفظ
چیئرمین پی اے ای سی ڈاکٹر راجہ علی رضا انور کا کہنا تھا کہ اس معاہدے پر دستخط پاکستان کے پرامن جوہری سائنس و ٹیکنالوجی کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی اے ای اے کے تعاون سے ملک میں خوراک، صحت، توانائی اور ماحولیات کے شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال جاری رہے گا۔
]]>عرب میڈیا کے مطابق، اپنے افتتاحی خطاب میں امیرِ قطر نے فلسطین کی تازہ ترین صورتحال، خاص طور پر **غزہ میں اسرائیلی مظالم اور حماس کے مذاکرات کاروں پر حملے** کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ:
> "اسرائیل نے انسانیت کے خلاف جرائم میں تمام حدیں پار کر لی ہیں۔ یہ حملے نہ صرف عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے میں قیامِ امن کی کوششوں کو بھی سبوتاژ کر رہے ہیں۔”
اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت:
شیخ تمیم نے اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور فلسطینی سرزمین پر قبضے کی پالیسی کو "علاقائی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیا اور کہا کہ:
> "ہم نے ہمیشہ ثالثی کے ذریعے امن قائم رکھنے کی کوشش کی ہے، مگر اسرائیل کی حالیہ کارروائیاں امن عمل کو تباہ کر رہی ہیں۔”
مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سازش:
امیر قطر نے کہا کہ حماس کے مذاکرات کاروں کو نشانہ بنانا اسرائیل کی جانب سے "امن اور جنگ بندی کی کاوشوں کو ناکام بنانے کی واضح کوشش” ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ رویہ مشرقِ وسطیٰ میں طویل مدتی عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔
گریٹر اسرائیل کا منصوبہ عالمی امن کے لیے خطرہ:
انہوں نے "گریٹر اسرائیل” کے ایجنڈے کی بھی کھل کر مذمت کی اور اسے عالمی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ امیر قطر نے یرغمالیوں کی پُرامن رہائی سے متعلق اسرائیلی دعوؤں کو "جھوٹا اور گمراہ کن” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
عالمی برادری سے فوری اقدام کی اپیل:
خطاب کے اختتام پر امیرِ قطر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ غزہ میں ہونے والے **سنگین جنگی جرائم** پر اسرائیل کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔
> "انسانی حقوق کی پامالی اور بچوں، خواتین و بے گناہ شہریوں کی نسل کشی پر اسرائیل کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔”
]]>قطری نشریاتی ادارے **الجزیرہ** کے مطابق یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب دوحہ میں قطر کی میزبانی میں عرب اور مسلم رہنماؤں کی مشترکہ سربراہی کانفرنس جاری ہے، جس کا مقصد اسرائیل کے حالیہ اقدامات کے خلاف مؤثر لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔
رہائشی علاقوں پر بمباری، بے گھر افراد کیمپ بھی نشانہ:
اسرائیلی حملے مغربی غزہ کے علاقے **تل الحوا** میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنانے سے شروع ہوئے، جس کے ملبے اور شیل قریبی بے گھر افراد کے کیمپ پر جا گرے۔ کیمپ میں موجود سیکڑوں بے گھر خاندانوں میں کئی افراد موقع پر ہی شہید یا شدید زخمی ہو گئے۔
غزہ کے طبی ذرائع کے مطابق صرف اتوار کے روز 41 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جب کہ درجنوں زخمی اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
شہریوں کو انخلا کی دھمکیاں، نقل مکانی کا نیا سلسلہ:
اسرائیلی افواج نے متعدد علاقوں میں انخلا کی وارننگز جاری کی ہیں، جس کے باعث ہزاروں فلسطینی ایک بار پھر بے گھر ہو کر تباہ حال علاقوں سے نکلنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اسرائیل کا مقصد غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔
ایران کا "مشترکہ آپریشن روم” کا مطالبہ:
ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر **علی لاریجانی** نے خطے میں اسرائیل کے خلاف ایک **مشترکہ آپریشن روم** قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مسلم دنیا نے صرف کانفرنسوں پر اکتفا کیا اور عملی اقدامات نہ اٹھائے تو یہ اسرائیل کو مزید جارحیت کا لائسنس دینے کے مترادف ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ عسکری حکمتِ عملی نہ صرف اسرائیل کے حامیوں کو پریشان کرے گی بلکہ صہیونی ریاست کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی پر مجبور بھی کر دے گی۔
یاد رہے کہ **جون 2025** میں ایران بھی اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنا تھا، جس کے نتیجے میں دو ہفتے طویل کشیدگی پیدا ہوئی۔
اسرائیلی وزراء کی دھمکیاں، ترکی بھی نشانے پر:
اسرائیلی وزراء نے حماس کے رہنماؤں کو دنیا کے کسی بھی حصے میں نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیتے ہوئے ترکی کو بھی تنبیہ کی ہے۔
اسرائیلی کابینہ کے رکن اور وزیر توانائی **ایلی کوہن** نے کہا:
> "حماس کے رہنما دنیا میں کہیں بھی محفوظ نہیں۔ چاہے وہ استنبول ہو یا انقرہ، ہم ان تک پہنچ سکتے ہیں۔”
اسی طرح ایک اور وزیر **زیو الکین** نے بھی کہا کہ:
> "ہم ان کا پیچھا کریں گے اور جہاں کہیں ہوں، انہیں جواب دینا ہوگا۔”
مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی آبادکاروں کا دھاوا:
فلسطینی خبررساں ایجنسی **وفا** کے مطابق اتوار کے روز درجنوں اسرائیلی آبادکاروں نے مسجد اقصیٰ کے صحن پر دھاوا بولا۔ اسرائیلی پولیس کی نگرانی میں آبادکاروں نے گروپوں کی صورت میں صحن میں داخل ہو کر تلمودی رسومات ادا کیں۔
برلن میں 20 ہزار افراد کا احتجاج، نسل کشی بند کرنے کا مطالبہ:
جرمنی کے دارالحکومت **برلن** میں 20 ہزار سے زائد افراد نے غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ "غزہ میں نسل کشی بند کرو” کے عنوان سے منعقدہ اجتماع میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
سابق برطانوی بینڈ **پنک فلوئڈ** کے گلوکار **راجر واٹرز** نے ویڈیو پیغام میں مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا:
> "ہم سب فلسطینی عوام کی حمایت میں یہاں موجود ہیں۔ دنیا کے کروڑوں انسان اسرائیل کی بربریت کے خلاف کھڑے ہو چکے ہیں۔”
جرمن سیاستدان اور بائیں بازو کی جماعت **بی ایس ڈبلیو** کی سربراہ **سہرا واگن کنیکٹ** نے مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ:
> "اگرچہ میں 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کی مذمت کرتی ہوں، لیکن یہ کسی بھی صورت 20 لاکھ فلسطینیوں کو بمباری، قتل، بھوک اور جبری بے دخلی کا نشانہ بنانے کا جواز نہیں بنتا۔ یہ ایک نسلی صفایا ہے، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔”
مظاہرین نے فلسطینی پرچم لہرائے اور جرمن حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو اسلحہ کی ترسیل فوری بند کرے۔
64 ہزار سے زائد فلسطینی شہید:
اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک **64,756** فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سے متعدد بار جنگ بندی کی اپیلوں کے باوجود اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔
]]>عرب میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے منصوبے کی منظوری دیتے ہوئے واضح کیا کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا: *”یہ زمین ہماری ہے اور ہم اپنا وعدہ پورا کر رہے ہیں — یہاں کوئی فلسطینی ریاست نہیں بننے دیں گے۔”*
منصوبے کے تحت مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے لیے 3,400 نئے گھروں کی تعمیر کی جائے گی، جس سے مقبوضہ بیت المقدس کو مغربی کنارے کے بڑے حصے سے عملی طور پر جدا کردیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد علاقے میں موجود دیگر اسرائیلی بستیوں کو ایک دوسرے سے جوڑنا اور فلسطینیوں کی جغرافیائی یکجہتی کو مزید تقسیم کرنا ہے۔
دوسری جانب، غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تازہ فضائی حملوں میں مزید 72 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں، جب کہ محصور علاقے میں خوراک کی شدید قلت کے باعث مزید 5 افراد بھوک سے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
]]>صدر ٹرمپ نے اس تصویر کے ساتھ ایک ذومعنی تبصرہ کرتے ہوئے بھارت اور روس کے تعلقات پر تنقید کی اور کہا کہ دونوں ممالک "چین کی گہری تاریکی میں ڈوب گئے ہیں”۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ چین کی وجہ سے بھارت اور روس کو شاید ہم نے کھو دیا ہے اور طنزیہ انداز میں لکھا کہ "یہ دونوں چین کے ساتھ خوشحال مستقبل گزاریں”۔
عالمی منظرنامے میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت:
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چین تیزی سے اپنی معاشی اور سیاسی طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے نئے بین الاقوامی اتحاد قائم کر رہا ہے۔ بھارت اور روس دونوں BRICS اتحاد اور شنگھائی تعاون تنظیم میں چین کے ساتھ تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔
روس اور چین کے تعلقات گزشتہ ایک دہائی میں خاصے گہرے ہو گئے ہیں، خاص طور پر یوکرین جنگ کے بعد، جب مغربی ممالک نے روس پر سخت پابندیاں عائد کیں۔ اس کے نتیجے میں روس کے لیے چین ایک اہم تجارتی اور عسکری شراکت دار بن کر ابھرا ہے۔
بھارت اور چین کے متنوع تعلقات:
اگرچہ بھارت اور چین کے تعلقات سرحدی تنازعات اور کشیدگی سے بھرپور ہیں، لیکن اقتصادی طور پر چین بھارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ بھارت BRICS میں چین اور روس کے ساتھ کھڑا ہے، جسے ٹرمپ اور دیگر مغربی مبصرین "امریکا مخالف بلاک” قرار دیتے ہیں۔
ٹرمپ کی پالیسی اور امریکی خارجہ تعلقات:
ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت (2017-2021) میں چین پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنا شروع کی تھیں، جنہیں وہ اپنے دوسرے دور اقتدار میں مزید سخت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ بیان نہ صرف بھارت-امریکا تعلقات میں ممکنہ دراڑوں کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ امریکہ کی مستقبل کی خارجہ پالیسی کے ازسرنو ترتیب پانے کی ضرورت بھی ظاہر کرتا ہے۔
]]>عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشیا کے وزیرِ مواصلات فاہمی فاضل نے ٹک ٹاک کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ موجودہ حفاظتی اقدامات ناکافی اور غیر تسلی بخش ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ پلیٹ فارم پر بچوں کو منفی، جنسی اور نقصان دہ مواد تک رسائی حاصل ہے، جسے فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔
حکومتی انتباہ: قانون پر عمل نہ ہوا تو سخت کارروائی ہوگی:
فاہمی فاضل نے خبردار کیا کہ اگر ٹک ٹاک نے ملائیشین پولیس اور کمیونیکیشن اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن (MCMC) کے ساتھ مل کر ایج ویری فیکیشن سسٹم پر مؤثر طریقے سے کام نہ کیا، تو حکومت سخت اقدامات اٹھانے سے گریز نہیں کرے گی۔
آن لائن نقصان دہ مواد میں اضافہ، دیگر پلیٹ فارمز بھی طلب:
ملائیشیا میں حالیہ مہینوں کے دوران آن لائن جوا، اسکیمز، بچوں کے استحصال، سائبر بُلنگ اور نسلی و مذہبی منافرت پر مبنی مواد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس پر حکومت شدید تحفظات رکھتی ہے۔
اسی سلسلے میں حکومت نے نہ صرف ٹک ٹاک بلکہ سوشل میڈیا کے دیگر بڑے پلیٹ فارمز — جیسے X (سابقہ ٹوئٹر) اور میٹا کمپنی (فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ) — کو بھی طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان سے جواب طلبی کی جا سکے۔
نئے قوانین: بڑے پلیٹ فارمز کے لیے لائسنس لازمی:
واضح رہے کہ رواں سال سے ملائیشیا میں اُن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے لائسنس لینا لازمی قرار دیا گیا ہے جن کے صارفین کی تعداد 80 لاکھ سے زائد ہو۔ یہ قانون صارفین کے تحفظ اور مواد کے ضابطوں کو مؤثر بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔
دوسری جانب، برطانیہ اور یورپی ممالک میں ایج ویری فیکیشن سے متعلق قوانین پر پہلے ہی عملدرآمد شروع ہو چکا ہے، اور اب ملائیشیا بھی اسی سمت میں پیش قدمی کر رہا ہے۔
]]>وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت پر بات چیت کے لیے دباؤ ڈالا، ہم نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنازع روکا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ بہت بری جوہری جنگ ہوسکتی تھی، اس جوہری جنگ میں لاکھوں لوگوں کی جانیں جاسکتی تھیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی قیادت نے اس پورے معاملے میں مضبوطی اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا، دونوں نے حالات کی سنگینی کو بخوبی سمجھا اور بڑی ثابت قدمی دکھائی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم نے اس عمل میں بہت مدد کی، ہم نے تجارت کے ذریعے بھی اپنا کردار ادا کیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شروع میں سیز فائر کا کہا تو دونوں ممالک پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے، میں نے کہا ہم تمہارے ساتھ خوب تجارت کریں گے لیکن پہلے یہ سب بند کرو، اگر تم یہ بند کرتے ہو تو ہم تجارت کریں گے اگر نہیں کرتے،تو کوئی تجارت نہیں ہوگی۔
ٹرمپ نے کہا کہ لوگوں نے تجارت کو کبھی اس انداز میں استعمال نہیں کیا جس طرح میں نے کیا۔
]]>غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نےغزہ کے بے گھر فلسطینیوں کے کیمپوں، خیموں اور اسکول پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 24 گھنٹوں کے دوران مزید 107 فلسطینی شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق صیہونی فوج کی جانب سے غزہ میں مسجد خالی کرنے کا حکم دے کر قریبی پناہ گزین اسکول پر بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں 2 صحافیوں سمیت 40 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے۔
میڈیا رپوٹس کے مطابق غزہ میں کھانے پینے کے سامان اور امداد کی بندش تیسرے ماہ میں داخل ہوگئی ہے جس سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ غزہ میں 18 مارچ سے دوبارہ شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 2632 تک پہنچ گئی ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے اب تک 6800 فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔
7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں اب تک شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 52 ہزار 653 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہیں۔ غزہ وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں کے باعث زخمیوں کی تعداد 118,900 تک پہنچ گئی ہے۔
]]>گزشتہ روز حزب اللہ سے لڑائی کے دوران 8 اسرائیلی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سرحد کے قریب شدید لڑائی جاری ہے، حزب اللہ نے اسرائیلی فوجیوں کے لیے بارودی مواد نصب کر رکھا ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے مزید تین حملوں کا دعویٰ کیا ہے، لبنانی مسلح گروپ کا کہنا ہے کہ شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوجیوں کو راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
]]>