پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جو نہ صرف اس کی سلامتی بلکہ اس کی روح کا امتحان لے رہا ہے۔ ہر روز بریگیڈیئر راجہ حسن عباس جیسے خاندانوں کو کیپٹن تیمور حسن شہید جیسے بیٹوں کا ناقابل تصور نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے جنہوں نے اپنی جانیں وطن کے دفاع کے لیے وقف کر دیں، کسی غیر ملکی دشمن کے ساتھ جنگ میں نہیں بلکہ اندر سے دہشت گردی کی لعنت سے لڑتے ہوئے گرے۔ ایک گہرے مفکر، محب وطن، سیاست دان، اس قوم سے محبت کرنے والے، اور سچائی کے پابند صحافی کے طور پر، میں پوچھتا ہوں: اگر ہم اندرونی تنزل میں اپنی پوری طاقت کھو دیں تو بھارت اور دیگر بیرونی خطرات کے خلاف کون کھڑا ہو گا؟ اور ہم بحیثیت قوم کب اپنے مستقبل کے ذمہ داروں سے احتساب کا مطالبہ کریں گے؟۔۔۔ اندر کا حقیقی دشمن: ایک نظامی بحران: وردی میں ملبوس پاکستان کے بہادر بیٹے قوم کے بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تربیت یافتہ اور متاثر ہیں۔ ان کا حلف لیا ہوا فرض ہے کہ وہ سرحدوں کی حفاظت کریں، اپنی خودمختاری کا دفاع کریں اور اگر ضرورت ہو تو اپنے وطن کے افق کو پھیلا دیں۔ اس کے باوجود، آج وہ غیر ملکی فوجوں کے سامنے نہیں بلکہ ملکی دہشت گردی کا شکار ہیں، جب کہ امن و امان کا جو آلہ ( محکمہ ) جسکا کام ہمارے شہروں کو محفوظ بنانا ہے، اکثر بدعنوان سیاست دانوں کی خدمت میں ہڑپ کر جاتا ہے، جو تحفظ کے بجائے پروٹوکول میں مصروف ہیں۔ ہماری ترجیحات کہاں ہیں؟ پولیس جس کا فرض امن و امان کو برقرار رکھنا ہے طاقتوروں کی سیاست میں الجھی ہوئی ہے۔ فوج، جس کا فوکس بیرونی دفاع پر ہونا چاہیے، اندرونی جنگوں کی وجہ سے الجھا ( مصروف) ہوا ہے- ایسی جنگیں جن کی ذمہ داری ایک مضبوط، ایماندار، اور چوکس پولیس اور سول انتظامیہ کی ہونی چاہیے۔ !….
اخلاقی اور سیاسی بیداری کی دعوت: بریگیڈیئر راجہ حسن عباس کا دکھ ان کا اکیلا نہیں ہے۔ یہ ہر اس ماں باپ کی خاموش چیخ ہے جس نے اپنے بچے کو پاکستان کی خدمت کے لیے بھیجا ہے، نہ کہ صرف کرپٹ، سمجھوتہ کرنے والے نظام بدعنوان سیاستدانوں کی نا اہلیت کے ہاتھوں کاشکار ہونے۔ ہمارے فوجی اور سول رہنما کب اس انتظام پر سوال اٹھائیں گے؟ کب کوئی کھڑا ہو کر کافی کہے گا — غیر ملکی ایجنٹوں کو، کرپٹ سیاستدانوں کو، ہمارے پیارے ملک کے دل کو کھائے جانے والی اخلاقی زوال کو؟۔۔۔۔۔ایک نئی ہمت کا وقت آگیا ہے: صرف گولیوں کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں، بلکہ جمود کو چیلنج کرنے کی ہمت، یہ مطالبہ کرنے کے لیے کہ جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا ہے، وہ ایک طرف ہٹ جائیں، تاکہ پاکستان اس عظمت کی طرف بڑھ سکے جس کا وہ مستحق ہے۔۔۔۔
قرآن و حدیث سے رہنمائی: قرآن ہمیں قربانی کی حرمت اور قیادت کے بوجھ کے بارے میں سکھاتا ہے: "اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کے بارے میں یہ مت کہو کہ وہ مر گئے ہیں۔” بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے۔” (قرآن، 2:154) ۔ ’’بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔‘‘ (قرآن، 4:58) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تمہارے بہترین لیڈر وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور جو تم سے محبت کرتے ہیں، جو تمہارے لیے دعا کرتے ہیں اور تم ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔ تمہارے سب سے برے لیڈر وہ ہیں جن سے تم نفرت کرتے ہو اور جو تم سے نفرت کرتے ہو، جن پر تم لعنت بھیجتے ہو اور جو تم پر لعنت بھیجتے ہو۔”(صحیح مسلم)۔ اور قیادت اور انصاف کے فرائض کے بارے میں: ’’تم میں سے ہر ایک چرواہا ہے اور تم میں سے ہر ایک اپنے ریوڑ کا ذمہ دار ہے۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) دیگر مقدس کتابوں سے مظاہر: بائبل بھی قربانی اور صالح قیادت کی بات کرتی ہے: "اس سے بڑی محبت کوئی نہیں ہے: اپنے دوستوں کے لیے جان دینا۔” (یوحنا 15:13)۔ اور تورات انصاف کا حکم دیتی ہے: "انصاف، انصاف آپ کو ملنا چاہیے۔” (استثنا 16:20) ۔ شہداء: بھارت کے ساتھ جنگیں بمقابلہ دہشت گردی کے خلاف جنگ (ایک تقابلی عکاسی) آزادی کے بعد سے، پاکستان نے بھارت کے ساتھ کئی جنگیں لڑی ہیں (1948، 1965، 1971، اور کارگل 1999)۔ ان جنگوں میں فوجی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دسیوں ہزار میں بتائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، اندازے بتاتے ہیں کہ 1965 اور 1971 کی مشترکہ جنگوں میں پاکستان نے تقریباً 7,000 سے 10,000 فوجیوں کو کھو دیا تھا۔ اس کا مقابلہ 2001 سے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے کریں۔ سرکاری اور آزاد اندازوں کے مطابق، پاکستان نے مقامی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں 8000 سے زیادہ فوجی اہلکار (بشمول فوج، ایف سی، رینجرز اور فضائیہ) کو کھو دیا ہے جو کہ بھارت کے ساتھ مشترکہ تمام جنگوں میں ہونے والے نقصانات کے حریف یا اس سے بھی زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ دسیوں ہزار شہری دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔۔۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ : ہمارے بہادروں کا خون اب گھر کی سرزمین پر زیادہ کثرت سے بہایا جا رہا ہے، جو ہمیں بیرونی حملہ آوروں سے نہیں بلکہ دہشت گردوں، مجرموں اور بدعنوانوں کے اندر کے دشمنوں سے بچاتے ہیں۔ اگر یہ جاری رہا تو بیرونی خطرہ واپس آنے پر ہمارا دفاع کون کرے گا؟….ایک محب وطن کی درخواست: آئیے اپنے شہداء کی قربانیوں کے قابل نظام کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی عزت کریں۔ آئیے ہم اپنے عسکری، سیاسی اور سول رہنماؤں سے پاکستان کو کرپشن اور نااہلی سے پاک کرنے کا مطالبہ کریں۔ آئیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پولیس اپنا فرض ادا کرے، سیاستدان عوام کی خدمت کریں، اور فوج ہماری سرحدوں اور خودمختاری کی محافظ کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی رہے ، نہ کہ ہماری اپنی ناکامیوں کے خلاف آخری ڈھال۔۔۔ یہ صرف فوج یا سیاست دانوں کا سوال نہیں ہے۔ یہ ہر پاکستانی کے لیے ایک سوال ہے کہ ہم اپنے ملک کی روح کے لیے کھڑے ہونے سے پہلے کب تک اپنے میں سے بہترین کو گرنے دیں گے؟۔۔۔
اللہ پاک پاکستان کو انصاف، اتحاد اور امن کی راہ پر حسب دستور گامزن رکھے۔ آمین
]]>چند روز قبل کابینہ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی، جسے عرف عام میں نیشنل سیکورٹی کمیٹی کہا جاتا ہے، کا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ قومی سلامتی کے حوالے سے یہ سب سے اہم فورم یوں سمجھا جاتا ہے کہ اس میں وزیراعظم اور اہم وزرا کے علاوہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، آرمی چیف، نیول چیف اور ائرچیف بھی بیٹھتے ہیں۔ اس اجلاس کے بعد میڈیا کو جو خبر جاری کی گئی اس کی رو سے کمیٹی نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ایک جامع آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
جہاں تک میری معلومات ہیں تو یہ سوات یا وزیرستان جیسا کوئی آپریشن نہیں ہوگا بلکہ جنگی سطح پر یہ ٹارگٹڈ آپریشن ہوگا جو پختونخوا اور بلوچستان میں پہلے سے جاری ہے لیکن جس بندے نے پریس ریلیز تیار کی، اس میں ایسے الفاظ استعمال کئے گئے جس سے پورے پختونخوا اور بالخصوص قبائلی اضلاع میں یہ خوف پیدا ہوگیا کہ شاید ماضی کی طرح دوبارہ ہجرتوں اور بمباریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پریس ریلیز میں الفاظ استعمال ہوئے کہ :“An all-out comprehensive operation with the entire nation and the government, which will rid the country of the menace of terrorism with renewed vigor and determination.”
ہمہ گیر اور جامع کے الفاظ سے زیادہ تر لوگوں نے بجا طور پر یہ تاثر لیا کہ ماضی کے آپریشنوں کی طرح کوئی نیا ملٹری آپریشن شروع کیا جائے گا لیکن جہاں تک میں سمجھا ہوں تو اس سے مراد یہ ہے کہ عسکریت پسندی سے جڑے دیگر پہلوئوں مثلا بیانئے کی تشکیل، پروپیگنڈے، سوشل میڈیا کے ذریعے عسکریت پسندوں کے پروپیگنڈے کو روکنے اور اسی طرح کے دیگر پہلوئوں پر محیط کارروائی شروع کی جائے گی جس کی حکمت عملی طے کرنے کیلئے ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔ جہاں تک ٹارگٹڈ ملٹری آپریشن کا تعلق ہے تو وہ تو پختونخوا اور بلوچستان میں کب سے جاری ہے۔ حقیقتا ً وہاں جنگ جیسی صورت حال ہے۔ جنگ یا آپریشن اور کس بلا کا نام ہے؟
خیبر پختونخوا میں ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتا کہ یا عسکریت پسند کوئی کارروائی نہ کریں یا پھر سیکورٹی فورسز کی طرف سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو۔ اب کی بار یہ صرف قبائلی اضلاع تک محدود نہیں بلکہ صوابی سے پشاور اور باجوڑ سے وزیرستان تک پھیلا ہوا ہے۔ ہمارے وزیر دفاع یا وزیر اطلاعات کا تو ان چیزوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا اس لئے حکومتی سائیڈ کی تفصیلات ہمیں معلوم نہیں لیکن ٹی ٹی پی کی طرف سے جو رپورٹ جاری کی گئی ہے اس کی رو سے گزشتہ تین ماہ کے دوران انہوں نے 117 کارروائیاں کی ہیں، جن میں ان کے بقول آرمی کے 99، پولیس کے 167، ایف سی کے 73، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے 18 اور رینجرز کے 7 افراد لقمہ اجل بنے۔
دوسری طرف فوج، ایف سی، پولیس اور انٹیلی جنس ادارے ان کے خلاف پوری طرح متحرک ہیں اور جہاں انہیں سراغ ملتا ہے، وہ کارروائیاں کرتے ہیں، اس کے باوجود گزشتہ روز ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں طالبان خیبر ایجنسی کے تیراہ بازار میں گشت کرتے ہوئے نظر آئے۔
اب خیبر پختونخوا کے عوام پہلے سے خوف اور دہشت کی فضا میں جی رہے ہیں لیکن آپریشن کا نام سننے سے ان کی نیندیں مزید حرام ہوگئیں اور حکومت کا عالم یہ ہے کہ اس نے اپنی اتحادی اے این پی کو بھی اعتماد میں نہیں لیا اور یہی وجہ ہے کہ منظور پشتین کے علاوہ ایمل ولی خان نے بھی نئے آپریشن کے حوالے سےتحفظات کا اظہار کیا۔ اسی طرح جے یو آئی جو خیبر پختونخوا میں حکمراں اور مرکزی حکومت میں اہم ترین حصہ دار ہے، کی قیادت بھی اس حوالے سے مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔
اس کے وزرا یا گورنر نے بھی قوم کو یہ نہیں بتایا کہ اگر ماضی کی طرح آپریشن ہے تو ان کے حکومت میں ہوتے ہوئے اس کی منظوری کیوں دی گئی اور اگر ٹارگٹڈ ہے تو پھر ہمہ گیر اور جامع سے کیا مراد ہے؟ جہاں تک میری طالبعلمانہ رائے ہے تو میں نے ماضی کے ہر آپریشن کی مخالفت کی ہے اور اگر اب ایسا ہوتا ہے تو اس کے خلاف بھی آواز اٹھائوں گا لیکن تادم تحریر میری معلومات کے مطابق ماضی کی طرح کا کوئی آپریشن شروع نہیں کیا جارہا ہے اور ہمہ گیر اور جامع سے مراد یہ ہے کہ پروپیگنڈے، اداروں کے مابین ہم آہنگی لانے اور سوشل میڈیا یا بیانیہ وغیرہ جیسے پہلوئوں پر بھی توجہ دی جائے گی لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سب کام کون کرے گا؟ ابھی تک تو حکومت کے اندر قومی سلامتی کے ایشوز کی طرف عدم توجہی کا یہ عالم ہے کہ ایک سو سے زائد وزرا، مشیروں اور معاونین خصوصی کی فوج بھرتی کی گئی ہے لیکن قومی سلامتی کے مشیر کا عہدہ خالی ہے۔
طالبان کی میڈیا مینجمنٹ، موجودہ حکومت سے سو گنا بہتر ہے۔ وہ ہر ایشو پر اپنا موقف منٹوں میں سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچاتے ہیں۔ ان کے خلاف کارروائی ہو یا وہ کارروائی کریں تو منٹوں میں وہ تفصیلات اور اپنا موقف میڈیا تک پہنچا دیتے ہیں لیکن حکومتی وزرا تک کو اس کا علم نہیں ہوتا۔ اب تو طالبان اپنا آن لائن ریڈیو بھی چلاتے ہیں اور آن لائن ماہانہ رسالہ بھی شائع کرتے ہیں لیکن حکومت میں شامل جماعتوں کا ان کے حوالے سے کوئی ایک بیانیہ ہی نہیں کیونکہ اے این پی اور پیپلز پارٹی کچھ اور جبکہ جے یو آئی کچھ اور سوچ رکھتی ہے۔
مسئلے کی جڑیں افغانستان میں پیوست ہیں لیکن وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایک سال مکمل ہونے کے باوجود افغانستان کا دورہ نہیں کیا۔ پہلے افغانستان کیلئے خصوصی نمائندے صادق خان ہمہ وقت طالبان حکومت کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے اور بارڈر کے معاملات پر بھی توجہ دیتے تھے لیکن اب انہوں نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔ کوآرڈنیشن کیلئے نیکٹا کا ادارہ قائم کیا گیا تھا لیکن وہ پولیس افسران کیلئے بیگار کیمپ بن گیا ہے۔ اس کے پاس اختیار ہے اور نہ وسائل۔
نیشنل سیکورٹی پالیسی کو آج تک شاید کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا اور گزشتہ روز میں نے نیشنل سیکورٹی ڈویژن کی ویب سائٹ کو وزٹ کیا تو وہاں نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی پریس ریلیز تک موجود نہیں تھی۔ بلکہ مخلوط حکومت کے بعد وہاں سیکرٹری کی چند ملاقاتوں کی تصاویر کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتا۔ میں حیران ہوں کہ ان حالات میں موجودہ حکومت سیکورٹی اداروں کے مابین کوآرڈنیشن کیسے لائیگی اور عسکریت پسندوں کے موثر پروپیگنڈے کا جواب کیسے دے سکے گی؟ میرا کل بھی یہ موقف تھا اور آج بھی یہ موقف ہے کہ مسئلے کا حل صرف جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہیں لیکن اس طرح کے مذاکرات نہیں، جس طرح عمران حکومت میں کئے گئے۔ بشکریہ روزنامہ جنگ
]]>