تفصیلات کے مطابق جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں جاری چیمپئن شپ میں ارشد ندیم واحد پاکستانی ایتھلیٹ کے طور پر شریک ہیں۔ انہوں نے کوالیفائر گروپ ’بی‘ میں پہلی تھرو کی، جو 76.90 میٹر رہی — جو ان کے معیار کے مطابق خاصی کمزور تھی۔
دوسری کوشش میں بھی ارشد بہتر کارکردگی نہ دکھا سکے اور تھرو کا فاصلہ 74.17 میٹر رہا۔ ابتدائی دو کوششوں کے بعد ان کے فائنل تک رسائی کے امکانات مدہم پڑ گئے تھے، تاہم تیسری اور آخری تھرو میں انہوں نے زبردست کم بیک کرتے ہوئے 85.28 میٹر کی تھرو کی، جس کے نتیجے میں وہ فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
اب فائنل میں ان کا مقابلہ بھارت کے عالمی چیمپئن نیرج چوپڑا سمیت دیگر عالمی درجے کے ایتھلیٹس سے ہوگا۔ ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کا فائنل کل (18 ستمبر) کو ٹوکیو میں منعقد ہوگا۔
یاد رہے کہ ارشد ندیم حالیہ مہینوں میں انجری کے باعث ورلڈ ایتھلیٹکس سلور ٹور اور ڈائمنڈ لیگ سے باہر ہو گئے تھے، جس کے بعد ان کی تمام توجہ ورلڈ چیمپئن شپ پر مرکوز رہی۔
28 سالہ ارشد ندیم، جو پیرس اولمپکس کے لیے پاکستان کی امید سمجھے جا رہے ہیں، نے رواں سال جون میں پنڈلی کی سرجری کروائی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے لندن میں چند ہفتے بحالی (ری ہیب) کے عمل میں گزارے اور پھر وطن واپس آ کر لاہور میں چیمپئن شپ کی تیاری کی۔
]]>میڈیا رپورٹس کے مطابق، پی سی بی نے "اسپرٹ آف کرکٹ” کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے آئی سی سی اور میریلبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) کو باضابطہ خط ارسال کیا ہے، جس میں میچ ریفری کرس پائی کرافٹ اور ایونٹ ڈائریکٹر اینڈریو پارسل کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی سی بی نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتی کھلاڑیوں نے دانستہ طور پر پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ نہ ملا کر کھیل کی روح کو نقصان پہنچایا، جب کہ میچ ریفری نے جان بوجھ کر دونوں ٹیموں کے کپتانوں کو مصافحے سے روکا۔
پی سی بی کا مؤقف ہے کہ کھیل میں اس طرح کے غیر پیشہ ورانہ رویے سے کرکٹ کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے، اور اگر فوری ایکشن نہ لیا گیا تو پاکستان ایشیا کپ سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے۔
]]>پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 171 رنز بنائے۔ ٹاپ آرڈر بلے باز فخر زمان نے شاندار اور ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 44 گیندوں پر ناقابلِ شکست 77 رنز بنائے، جس میں 10 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔
فخر زمان کا بھرپور ساتھ محمد نواز نے دیا، جنہوں نے بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے ہوئے 37 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔ دونوں بلے بازوں کے درمیان چھٹی وکٹ کے لیے 91 رنز کی قیمتی شراکت بنی، جو صرف 51 گیندوں پر مکمل ہوئی۔
یو اے ای کی جانب سے حیدر علی دو وکٹیں لے کر نمایاں باؤلر رہے۔
اس اہم میچ کے لیے پاکستان ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئیں۔ فاسٹ باؤلر حارث رؤف کی جگہ سلمان مرزا اور صفیان مقیم کی جگہ اسپنر ابرار احمد کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔
قومی ٹی20 اسکواڈ کی قیادت سلمان علی آغا کر رہے ہیں، جب کہ دیگر کھلاڑیوں میں صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، فخر زمان، حسن نواز، محمد نواز، محمد حارث، فہیم اشرف، شاہین شاہ آفریدی، سلمان مرزا اور ابرار احمد شامل ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان نے سیریز کے ابتدائی میچ میں افغانستان کو 39 رنز سے اور دوسرے میچ میں یو اے ای کو 31 رنز سے شکست دی تھی، جبکہ تیسرے میچ میں افغان ٹیم نے پاکستان کو 18 رنز سے ہرا دیا تھا۔
]]>صدر مملکت ارشد ندیم کو کھیل کے میدان نمایاں خدمات کے اعتراف میں خصوصی تقریب میں سول ایوارڈ عطا کریں گے، صدر مملکت کی ہدایت پر ایوان صدر نے ارشد ندیم کو سول ایوارڈ عطا کرنے کیلئے کابینہ ڈویژن کو خط ارسال کر دیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے خط میں لکھا کہ ارشد ندیم نے بہترین کارکردگی سے کھیل کے میدان میں قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا، ارشد ندیم کی عالمی سطح پر شاندار کامیابی قوم کیلئے فخر کا باعث بنی، ارشد ندیم نے ایتھلیٹکس کے میدان میں ملک کا نام روشن کیا۔
صدر مملکت ارشد ندیم کو سول ایوارڈ آئین کے آرٹیکل 259 (2) کے تحت عطا کریں گے، آئین کے تحت صدر مملکت مختلف شعبوں میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میں پاکستان کے شہریوں کو اعزاز عطا کر سکتے ہیں۔
]]>اپنے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے سابق کرکٹر باسط علی نے اپنا ٹی20 ورلڈکپ اسکواڈ شیئر کیا، جس میں انہوں نے تجربہ کار فاسٹ بولر محمد عامر کو اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا جبکہ ریزو کھلاڑیوں میں نوجوان محمد حارث، آغا سلمان اور محمد علی کو شامل کیا۔
اس سے قبل سابق کرکٹرز وقار یونس، سلمان بٹ اور بازید خان نے اپنے اسکواڈز کا اعلان کیا تھا۔ تینوں سابق کرکٹرز نے عامر جمال اور اسپن ڈیپارٹمنٹ کے شعبے میں اسامہ میر اور ابرار کو شامل کیا تھا۔
واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی20 سیریز میں محمد عامر نے 4 میچوں میں محض 3 وکٹیں حاصل کرسکے تھے۔
باسط علی کا 15 رکنی اسکواڈ؛
کپتان بابراعظم، محمد رضوان، صائم ایوب، فخر زمان، افتخار احمد، اعظم خان/عثمان خان، عرفان نیازی، شاداب خان، عماد وسیم، عباس آفریدی/عامر جمال، شاہین آفریدی، نسیم شاہ، حارث رؤف، اسامہ میر اور ابرار احمد۔. ریزو کھلاڑیوں میں محمد حارث، آغا سلمان اور محمد علی
]]>ٹی20 سیریز کے تیسرے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، نیوزی لینڈ کی ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 225 رنز بنائے، کیوی اوپنر فن ایلن نے دھواں دار اننگز میں 137 رنز بنا کر قومی ٹیم کے بالرز کو تگنی کا ناچ نچا دیا، تاہم زمان خان ان کی وکٹ لینے میں کامیاب ہوئے۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے اوپنر فن ایلن نے ریکارڈ 16 چھکوں اور 5 چھکوں کی مدد سے صرف 62 گیندوں پر 137 رنز بنائے، ڈیوون کونوے 7، ٹم سائفرٹ 31، ڈیرل مچلز 8، گلین فلپس 19، مارک چیمپمین 1، مچل سینٹنر 4 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے جب کہ میٹ ہینری 1 اور ایش سودھی 3 رنز بنا کر کریز پر موجود رہے۔
پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین آفریدی ایک بار پھر ناکام رہے اور 4 اوورز میں 43 رنز دے کر صرف ایک وکٹ حاصل کی، اسی طرح زمان خان نے بھی ایک وکٹ اپنے نام کی۔ حارث رؤف اننگز کے سب سے مہنگے بالر ثابت ہوئے، انہوں نے 4 اوورز میں 60 رنز دیے اور صرف ایک وکٹ حاصل کی، محمد نواز اور محمد وسیم بھی ایک ایک وکٹ لے سکے۔
کیویز کے 225 رنز کے ہدف کے تعاقب میں قومی ٹیم کے اوپنر صائم ایوب ٹیم کو اچھا آغاز فراہم نہ کرسکے اور 10 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے، ساتھی بیٹر محمد رضوان نے 24 رنز بنائے جب کہ بابر اعظم نے مزاحمت کرتے ہوئے اپنی ففٹی مکمل کی اور 58 رنز پر پویلین لوٹ گئے۔ فخر زمان 19، اعظم خان 10، افتخار احمد 1 اور محمد نواز 28 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، بعدازاں کپتان شاہین آفریدی 16 اور محمد وسیم 1 رنز بنا کر وکٹ موجود رہے۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹم ساؤتھی نے 2، میٹ ہینری، لوکی فرگوسن، مچل سینٹنر اور ایش سودھی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی جب میٹ ہینری 51 رنز دے کر مہنگے بالر ثابت ہوئے۔
]]>سیریز کے دوسرے ٹی20 میں کین ولیمسن 15 گیندوں پر 26 رنز بنا کر انجری کے باعث ریٹائرڈ ہٹ ہوگئے تھے جبکہ انکے بعد ٹیم کی قیادت ٹم ساؤتھی نے کی تھی۔
کین ولیمسن کی جگہ ٹم سیفرٹ کو ٹیم میں شامل کیے جانے کا امکان ہے جوکہ ممکنہ طور پر ڈیون کانوے کی جگہ وکٹ کیپنگ بھی کریں گے۔ کیوی کوچ کا کہنا ہے کہ پہلے بھی کین ولیمسن کا یہی گھٹنا زخمی ہوا تھا۔
نیوزی لینڈ نے پاکستان کو میچ میں 21 رنز سے شکست دی تھی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان تیسرا ٹی20 ڈونیڈن میں کھیلا جائے گا، کیوی ٹیم تیسرا میچ جیت کر سیریز جیت جائے گی۔
]]>فن ایلن 5 چھکوں اور 7 چوکوں کی مدد سے 41 گیندوں پر 74 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ کپتان کین ولیمسن 26 رنز بنا ریٹائرڈ ہرٹ ہوئے، اسکے بعد ڈیرل مچل 17، گلین فلپس 13، مارک چیپ مین 4 اور ایڈم ملنے صفر کے مہمان ثابت ہوئے۔
مزید پڑھیں: افتخار کی میدان میں مداح کو خاموش کروانے کی ویڈیو وائرل
پاکستان کی جانب سے حارث رؤف نے 3، عباس آفریدی نے 2 جبکہ اسامہ میر اور عامر جمال نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
قومی ٹیم 19.3 اوورز میں محض 173 رنز بناکر آل آؤٹ ہوگئی، ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا آغاز اچھا نہ رہا اوپنر صائم ایوب ایک اور محمد رضوان 7 رنز بناکر وکٹ گنوابیٹھے تاہم فخر زمان اور بابراعظم نے 87 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی لیکن فخر 50 کے انفرادی اسکور پر پویلین لوٹ گئے جبکہ بابراعظم نے 2 چھکوں اور 7 چوکوں کی مدد سے 64 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی، دیگر کھلاڑیوں میں افتخار احمد 4، اعظم خان 2، عامر جمال 9 اور شاہین شاہ آفریدی 22 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے ایڈم ملنے نے 2 جبکہ ٹم ساؤتھی، مچل سینٹنر، ایش سودھی اور بین سیئرز نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
قبل ازیں قومی ٹیم کے کپتان شاہین آفریدی نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، انہوں نے کہا کہ کوشش کریں گے ابتداء میں کنڈیشنز کا فائدہ اٹھا کر کیویز کے ٹاپ آرڈر کا شکار کریں۔
اس موقع پر کیوی کپتان کین ولیمسن نے کہا کہ پلئینگ الیون میں ایک تبدیلی کی گئی ہے، میٹ ہنری کی جگہ مچل سینٹنر کی واپسی ہوئی ہے۔
پاکستان کا اسکواڈ:
کپتان شاہین شاہ آفریدی، محمد رضوان، صائم ایوب، بابر اعظم، فخر زمان، افتخار احمد، اعظم خان، عامر جمال، اسامہ میر، حارث روف، عباس آفریدی
نیوزی لینڈ کا اسکواڈ:
کپتان کین ولیمسن، فن ایلن، ڈیون کونوے، ڈیرل مچل، گلین فلپس، مارک چیپ مین، ایڈم ملنے، مچل سینٹنر، ٹم ساؤتھی، ایش سودھی، بین سیئرز
واضح رہے کہ سیریز کے پہلے میچ میں کیویز نے ہوم گراؤنڈ پر پاکستان کو 46 رنز سے شکست دیکر سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کررکھی ہے۔
]]>کیوی ٹیم مینجمنٹ نے تصدیق کی ہے کہ سینٹرل سٹیگز ول ینگ کو اسکواڈ میں شامل کرلیا ہے۔
کپتان کین ولیمسن پاکستان کیخلاف تیسرے میچ میں ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے، انکی جگہ سٹیگز کو تیسرے میچ میں پلئینگ الیوں میں جگہ دی گئی تھی۔ قبل ازیں سیریز کے پہلے ٹی20 میچ سے قبل آل راؤنڈر مچل سینٹنر کوویڈ-19 وائرس کا شکار ہوکر میچ سے باہر ہوگئے تھے۔
]]>اکلینڈ میں کھیلے جارہے میچ میں کیوی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 226 رنز بنانے میں کامیاب رہی، یوی اوپنر ڈیون کانوے اور فن ایلن نے بیٹنگ کا آغاز کیا تاہم کانوے صفر کے انفرادی اسکور پر پویلین روانہ ہوئے، اوپنر کی وکٹ گرتے ہی فن ایلن نے پاکستانی بالرز پر لاٹھی چارچ کیا اور شاہین کے دوسرے ہی اوور میں 24 رنز بناڈالے۔
15 گیندوں پر 34 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلنے والے فن ایلن عباس آفریدی کا شکار بنے، پاکستانی فیلڈرز نے کپتان کین ولیمسن کے دو کیچز ڈراپ کیے، وہ 57 اور ڈیرل مچل 61 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ دیگر کھلاڑیوں میں گلین فلپس 21، مارک چیپ مین 26، ایڈم ملنے 10 اور ایش سودھی صفر پر پویلین لوٹے۔
پاکستان کی جانب سے عباس آفریدی اور شاہین آفریدی نے 3،3 جبکہ حارث رؤف نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔
ہدف کے تعاقب میں قومی ٹیم مقررہ 18 اوورز میں محض 180 رنز بناکر پویلین لوٹ گئی، قومی ٹیم کے اوپنر صائم ایوب نے جارحانہ آغاز فراہم کرنے کی کوشش کی تاہم وہ 27 کے انفراد اسکور پر رن آؤٹ ہوئے، نائب کپتان محمد رضوان 25 اور فخر زمان 15 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔
دیگر کھلاڑیوں میں کپتان شاہین آفریدی صفر، جبکہ اسامہ میر اور عباس آفریدی ایک ایک رنز بناسکے۔ بابراعظم نے 2 چھکوں اور 3 چوکوں کی مدد سے 35 گیندوں پر 57 رنز بنائے تاہم وہ قومی ٹیم کو جتوانے میں ناکام رہے۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹم ساؤتھی نے 4 جبکہ ایڈم ملنے اور بین سیئرز نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔
قبل ازیں قومی ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، انہوں نے کہا کہ کوشش کریں گے ابتداء میں کنڈیشنز کا فائدہ اٹھا کر کیویز کے ٹاپ آرڈر کا شکار کریں۔
انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کیخلاف عباس آفریدی اور اسامہ میر ڈیبیو کریں گے۔
اس موقع کیوی کپتان کین ولیمسن نے کہا کہ گرین شرٹس کیخلاف بڑا ہدف دینے کی کوشش کریں گے۔
پاکستان کا اسکواڈ::
کپتان شاہین شاہ آفریدی، محمد رضوان، صائم ایوب، بابر اعظم، فخر زمان، افتخار احمد، اعظم خان، عامر جمال، اسامہ میر، حارث روف، عباس آفریدی
نیوزی لینڈ کا اسکواڈ:
کپتان کین ولیمسن، فن ایلن، ڈیون کونوے، ڈیرل مچل، گلین فلپس، مارک چیپ مین، ایڈم ملنے، میتھیو ہنری، ٹم ساؤتھی، ایش سودھی، بین سیئرز