صفحہ اول / آرکائیو / ’’ویمن اِن یونیفارم‘‘

’’ویمن اِن یونیفارم‘‘

عمر چوہدری کا لم اگلا مورچہ

سنگلاخ پہاڑوں، دشوار راستوں، بلند و بالا گھاٹیوں، چٹیل میدانوں ،جنگ کے کارداروں میں پاکستانی فوج کے طبی شعبہ نے ہمیشہ مشکل ترین حالات میں جس جانفشانی سے فرائض منصبی ادا کیے ہیں اس کی تاریخ گواہ ہے اور ا ب تو ہماری خواتین ڈاکٹرز سربیا جیسے جنگی جرائم کے علاقہ میں بھی اپنی فوج کے شانہ بشانہ مصروف عمل ہیں، پاکستان کی عسکری تاریخ ہمیشہ ان شہیدوں اور غازیوں کی مرہون منت رہی ہے جنہوں نے سخت حالات میں خندہ پیشانی کا دامن نہیں چھوڑا ۔افواج پاکستان کے مختلف شعبوں میں خواتین کی بھرتی اور دلچسپی بھی دیگر شعبوں کی نسبت زیادہ حوصلہ افزاءہے خواتین آفیسرز اور اہلکاروں نے ویمن ان یونیفارم کی توقیر میں اضافہ کیا ہے۔کل ہی پاکستان میڈیکل کور کی سربراہی ایک ایسی خاتون کے سپرد کر دی گئی ہے جنہیں سپہ گری وراثت میں ملی ہے۔

جی ہاں یہ ہیں ہماری اور پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر، پہاڑوں کے دیس صوابی کے بہادر فرزند کیپٹن کرنل شیر خان نشان حیدر کی ڈسٹرکٹ فیلو، بہترین ڈاکٹر ،بہترین سرجن ہونے کے علاوہ بہترین نشانہ باز بھی ہیں اور دوستوں میں ”شوٹر“ کے لقب سے معروف ہیں ۔نگار جوہر کو پاکستان کی تیسری خاتون میجر جنرل بننے کا اعزاز بھی حاصل ہے ،آپ کی شاندار خدمات پر انہیں تمغہ امتیاز ملٹری اور فاطمہ جناح گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا۔ پاک فوج میں تقریباً 3 دہائیوں پر مشتمل کیریئر میں انتظامی اور مختلف امور میں سربراہی کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔انہوں نے فیملی میڈیسن میں ایم سی پی ایس، ایڈوانسڈ میڈیکل ایڈمنسٹریشن میں ایم ایس سی اور صحت عامہ میں ماسٹرز کررکھا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے کئی دیگر کورسز بھی کیے اور ہسپتالوں میں ہنگامی بنیادوں پر تیاریوں سے متعلق امور کی نیشنل انسٹرکٹر بھی رہیں۔انہیں پاک فوج میں کئی عہدوں پر پاکستان کی پہلی خاتون کے طور پر کام کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے جن میں پاک آرمی میں آزادی کے بعد یونٹ، ہسپتال کی کمانڈنگ بھی شامل ہے۔اور اب انہیں پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل ہونے کے ساتھ ساتھ سرجن جنرل آف پاکستان کے منصب پر تعینات کر دیا گیا ہے ۔

نگار گوہر آئی ایس آئی کے سابق آفیسرز کرنل قادر کی صاحبزادی اور میجر عامر کی بھتیجی ہیں انہوں نے راولپنڈی کے پریزینٹیشن کانوینٹ گرلز ہائی سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ 1981ءمیں آرمی میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اور 1985ءمیں پاس آﺅٹ ہوئیں ،2012ءمیں انہوں نے ایڈوانس میڈیکل ایڈمنسٹریشن اور 2015ءمیں پبلک ہیلتھ کا اعزاز حاصل کیا ۔9فروری 2017ءکو میجر جنرل بننے والے 27بریگیڈئےر زمیں آپ بھی شامل تھیں اس طرح انہیں پاکستان کی تیسری خاتون میجر جنرل بننے کا اعزاز ملا۔ قبل ازیں ڈاکٹر شاہدہ بادشاہ اور شاہد ہ ملک پہلی اور دوسری خاتون میجر جنرل بن چکی تھیں ۔

لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر بریگیڈیئر کی حیثیت سے سی ایم ایچ جہلم کی کمان بھی کر چکی ہیں ،نگار جوہر آرمی میڈیکل کالج کی پرنسپل اور پاک ایمریٹس ملٹری ہسپتال راولپنڈی کی کمانڈنٹ بھی رہ چکی ہیں ۔نگار جوہر نے ایک انٹرویو میں تاریخی الفاظ ادا کیے کہ ’پاکستان جیسے ملک کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا یہ میرا ملک ہے جس میں پلی بڑھی ہوں ہمیں مسلمان ملک کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر سے متعلق بھی سوچنا ہو گا‘۔ انہوں نے کہا کہ’ پاکستان کے سوا کسی ملک کے طبی شعبہ میں خاتون میجر جنرل نہیں ہیں‘ ۔ لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کے انتخاب پر ملک بھر سے نیک خواہشات کا سلسلہ جاری ہے یقینا نگار جوہر اپنے منصب کے فرائض کےساتھ ساتھ خواتین کی بہتری کےلئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں گی آپکا انتخاب آرمڈ فورسز میں نئی آنےوالی خواتین کےلئے بھی سنگ میل ہو گا ۔

Check Also

وزیراعظم کا ‏پینڈورا لیکس تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کا سیل قائم کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد – وزیراعظم عمران خان نے پینڈورا لیکس کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے