صفحہ اول / آرکائیو / دل دکھتا ہے ۔۔۔۔ !!!

دل دکھتا ہے ۔۔۔۔ !!!

چوہدری اکرم کاشمیری کا کالم چوتھا ستون

ہمارے بچپن کے دن بھی کیا دن تھے آج جب یاد کرتے ہیں تو عجیب سے خیالوں میں ڈوب جاتے ہیں آج کے مقابلے میں وہ دور بہت بہتر تھا ۔ تایا جی کہا نیاں سنایا کرتے تھے کہ جب کوئی اپنے رشتہ داروں کو ملنے دور دراز کے دیہات میں جاتا تھا تو اپنی فیملی کو پڑوس میں امانتاً چھوڑجایا کرتا تھا۔ لوگ بڑے درد دل رکھنے والے تھے اور ایک دوسرے کی عزتوں کا خیال رکھتے تھے۔ تایا جی کے گھر ایک ٹیپ ریکارڈر ہوتا تھا جسے سننے کے لیے گاؤں کے لوگ اکثر اکٹھے ہو جایا کرتے تھے۔ تایا جی انہیں ملکی حالات سے بھی آگاہ کرتے رہتے تھے ایک دن میں نے تایا جی کی ٹیپ ریکارڈ پر ایک غزل استاد مہدی حسن کی سنی یہ کاغذی پھول جیسے چہرے مذاق اڑاتے ہیں آدمی کا یہ غزل میرے دماغ میں ایسے نقش کر گئی جب میں میٹرک کا طالب علم تھا تو اپنے اُردو کے استاد محترم اصغر شاہ صاحب سے اس نظم کی تشریخ کرنے کی درخواست کی تو کہنے لگے ملک ایران میں بادشاہ کے سامنے جب دربارلگتا تھا تو اس میں سائل کو کاغذی لباس پہنا کر پیش کیا جاتا تھا اور دوسری طرف شاہی لباس میں ملبوس بادشاہ اپنی جاہ و جلال میں ہوتا تھا۔ اس غزل میں غالب نے اشارہ انسان کی طرف کیا ہے کہ عام سائل اور بادشاہ دراصل دونوں اس کاغذ کی طرح اس دنیا میں ناپائیدار اور عارضی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ بھی اپنی کتاب قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ اے انسان میں نے تمہیں شروع میں کمزور پیدا کیا پھر طاقت دی پھر بڑھاپا اور آخر میں موت اور تو نے تو لوٹ کر میری طرف ہی آنا ہے۔

معزز قارئین یہ بات ہمارے مشاہدے میں آئی ہے کہ کسی بھی گھر میں بچہ پیدا ہونے کے بعد سب سے زیادہ فکر اس بات کی ہوتی ہے کہ یہ بڑا ہو کر کیا بنے گا پھر آہستہ آہستہ ہم اس کے لئے مکان اور مقام کی فکر میں پڑ جاتے ہیں۔ دراصل جو کام والدین کا ہوتا ہے تربیت کرنا اولاد کی وہ ہم بھول جاتے ہیں پچھلے دنوں ایک دوست کے گھر تیسری بیٹی پیدا ہوئی تو اس دوست کی والدہ اور بھائی نے رونا شروع کر دیا اور موصوف خود بھی پریشان تھے ایک انتہائی پڑھا لکھا انسان ہونے کے باوجود بھی اگر بیٹیاں پیدا ہونے پر ہمارا یہ رویہ ہے تو پھر ہمارا خدا ہی حافظ ہے۔ سچی بات ہے اس طرح کی چیزیں جب دیکھتے ہیں تو ہم بھی سینے میں ایک دل رکھتے ہیں اور وہ دُکھتا ہے۔ میں نے بہت سے لوگوں کو پیر فقیر کے درباروں پر بیٹوں کے لئے دعائیں مانگتے دیکھا ہے۔ آج تک کبھی کسی شخص کو بیٹی مانگتے نہیں دیکھا دوستو یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ نہیں تو اور کیا ہے ۔ کیا ہم اپنے نبی ۖکی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں ؟ ہمارے دین نے تو بیٹی کو رحمت قرار دیا ہے والدین پر اس کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ڈالی ہے اس کے معاشرتی تحفظ پر زور دیا ہے۔ جائیداد میں اسے مناسب حصہ دینے کی تلقین کی ہے ۔ ہماری نبیۖ نے فرمایا جس نے دو بیٹیوں کی تعلیم و تربیت پرورش اور نکاح میری سنت کے مطابق کیا وہ جنت میں میرے ساتھ ایسے ہو گا جیسے ہاتھ کی انگلیاں۔ لہٰذا انصاف کا یہ تقاضا ہے کہ پرورش کرتے ہوئے بیٹوں اور بیٹیوں میں رتی بھر فرق نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے دوستو رحمت پر رویا نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جانا چاہیے آج یہ ساری باتیں اس لیے یاد آرہی ہیں کہ گزشتہ تین چار دن سے سوشل میڈیا پر اس ستم رسیدہ ماں کی خبریں سن رہا ہوں جسے درندوں نے موٹروے پر اس کے بچوں کے سامنے پامال کر دیا ایسے لگتا ہے کہ جیسے سزاء کے طور پر یہاں سے انسانیت اٹھالی گئی ہے وہ ہماری بہن پولیس والوں کو ٹھیک کہہ رہی تھی کہ خدا کے لئے اسے گولی مار دو کہ ایسے سانحہ کے بعد اپنے بچوں کے سامنے جینا اور اس معاشرے میں رہنا ہر روز مرنے کے مترادف ہو گابقول شاعر۔

کب کہا ہے کہ مجھے فخر ہے اس جینے پر
روز ایک داغ چمکتا ہے میرے سینے پر

مجھ سے جھیلا نہ گیا حرف تسلی اس کا
کاش وہ گھاؤ لگاتا مجھے تلوار کے ساتھ

( سی سی پی او) لاہور عمر شیخ نے شاید اپنی طرف سے ٹھیک ہی کہا تھا کہ رات ڈیڑھ بجے ایک عورت کو اپنے بچوں کو لے کر لاہور کے ڈیفنس فیز 6 سے نکل کر گوجرانوالہ جانے کی کیا ضرورت تھی پھر اس نے پیٹرول بھی چیک نہیں کیا وہ جی ٹی روڈ سے چلی جاتی پھر یہ کہا کہ عورت کے ذہن میں فرانس کا سیٹ اپ تھا وغیرہ وغیرہ اس پر سوشل میڈیا چیخ پڑا ۔ (سی سی پی او) کی شامت آگئی اگر دوسرے پہلو میں اسے دیکھا جائے تو یہ عمر شیخ کا اعترافی بیان تھا کہ ہماری پولیس فرانس کی پولیس نہیں ہے۔ بلکہ ہماری پولیس ایسے حالات میں کچھ نہیں کر سکتی شرم آنی چاہیے (سی سی پی او) کو جس کے نیچے پولیس کی یہ حالت ہے کہ بجائے متاثرہ خاتون کی مدد کرنے کے پولیس اہلکار یہ کہتے رہے کہ یہ علاقہ فلاں کا ہے وغیرہ وغیرہ اور انہیں اس متاثرہ خاتون تک پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگتا ہے۔ یہ واقعہ تو موٹروے پر ہوا مگر گزشتہ روز وزیر اعلیٰ کے شہر تونسہ شریف میں بھی ایک خاتون کی عزت کو اس کے بچوں کے سامنے روند ڈالا گیا۔ مگر وہ خاتون تو اپنے گھر میں بیٹھی تھی ۔کراچی میں پانچ سال کی معصوم بچی کو درندگی کے بعد قتل کر دیا گیا۔

جہلم میں ایک 6 سالہ بچی سے زیادتی کرتے ایک مولوی کو پکڑ کر بچی کے والدین نے شہر کا چکر لگوا کر پولیس کے حوالے کیا۔سندھ کے شہر سیہون میں گزشتہ دنوں ایک عورت نے پسند کی شادی کی اس کے والد کی شکایت پر پولیس نے عورت اور اس کے خاوند کو گرفتار کیا ۔ جج کی عدالت میں پیش کیا تو جج نے خاتون سے اس کی مرضی معلوم کرنے کے لئے کہ وہ خاوند کے ساتھ جانا چاہتی ہے یا والد کے ساتھ اپنے چمبر میں لے گیا اور اس کے ساتھ ریپ کر دیا۔ عورت کی شکایت پر جج کے خلاف مقدمہ درج ہو گیا مگر ابھی تک سزا نہیں ملی۔یہی نہیں حالیہ دنوں میں دو بڑے اہم کیسز سامنے آئے ہیں پنجاب کے علاقے اوکاڑہ اور کراچی میں لانڈھی کے مقام سے ہماری بہنوں کی لاشیں نکال کر ان کی عصت دری کرنے والوں کو ابھی تک سزا نہیں ملی۔

وزیر اعظم سے میرا سوال ہے کیا ہم ریاست مدینہ کی طرف جا رہے ہیں ۔ حکومت کی یہ حالت ہے کہ بغض نواز شریف اور شہبار شریف میں ہر چار ماہ بعد آئی جی پنجاب کو تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

دوسری طرف ہمارے پولیس نظام کی یہ حالت ہے کہ یہ آج بھی 1861ء کے ڈھانچے پر کھڑی ہے ہمارا فوجداری قانون تعزیرات پاکستان 1860ء کا ہے۔ ہمارا ضابطہ فوجداری 1898ء کا ہے ۔ 122 سال پہلے کے زمانے میں جب حالات آج کی نسبت ذرائع مواصلات مختلف تھے ملزم سے تفتیش کے لئے 14 دن کا ریمانڈ ہو تا تھا اور آج کے جدید دور میں بھی تفتیش کے لیے 14 دن کا ریمانڈ ہوتا ہے۔ ظلم کی بنیاد ہی یہی فرسودہ نظام ہے۔ بدقسمتی سے ہماری پارلیمنٹ کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ اس کے لئے کوئی قانون سازی کرے ۔ پولیس اصلاحات کی ہر حکومت بات کرتی ہے مگر صرف باتوں کی حد تک ۔ لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ حکومت شدید عوامی دباؤ جو سوشل میڈیا کے ذریعے حکومت پر ڈالا جا رہا ہے اس کے بعد اس معاملے پر کوئی موثر قانون سازی کرے تانکہ پولیس بغیر کسی سیاسی دباؤ کے صرف اپنا کام کرے اور اسے اس طرح کے حالیہ واقعات کے بعد شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں عورتوں کی عصمت دری کے سالانہ تیس ہزار کے قریب مقدمات درج ہوتے ہیں مگر مجرمان کو سزا ملنے کی شرح چار فیصدسے بھی کم ہے اصل واقعات کی تعداد کتنی ہے یہ کوئی نہیں جانتا ۔

اقوام متحدہ کے مطابق دنیا میں ہر سال تقریباً پانچ کروڑ سے زائد عورتیں اور لڑکیاں اسقاط حمل کرانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ ان میں سے اسی فیصد خواتین کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہے جن میں ہم بھی شامل ہیں۔ ہمارے ملک میں جرائم روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں ہم ایک اسلامی ریاست میں رہتے ہیں جہاں ہم صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں ۔ معاشرے میں ظلم و زیادتی انصاف کی عدم دستیابی ناانصافی بڑھتی جا رہی ہے۔ اگر ہمارے حکمران اپنے ذاتی مفادات کی سیاست چھوڑ کر صرف ملکی و عوامی مفادات میں کام کرنا شروع کردیں تو ادارے خود بخود سیدھے ہو جائیں گے ۔ مثالی معاشرے اچھی تعلیم او رتربیت سے بنتے ہیں ۔ ہمارا فرسودہ تعلیمی نظام جو ہمیں انگریز دے کر چلا گیا جس کے تحت مقامی زبانوں میں تعلیم کے نظام کو ختم کر کے انگریزی زبان میں تعلیم دی گئی یہ فرسودہ نظام تعلیم پاکستان بننے کے بعد سے لے کر آج تک رائج ہے۔

ہمارا نصاب انگریزی زبان میں ہے جس کو ہمارے بچے پڑھ کر پاس تو ہو جاتے ہیں لیکن انہیں سمجھ کچھ نہیں آتا ہمیشہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ انگریزی بے شک بین الاقوامی زبان ہے مگر دس سال کے بعد یہ بچوں کو سیکھائی جائے ۔ حکومت کو چاہیے تمام سکولوں میں نئے (ایس او پی) بنائے جائیں اساتذہ کو پابند کیا جائے کہ وہ ایک پیریڈ بچوں کی اخلاقی تربیت پر دیں ان میں صبر و برداشت پیدا کرنے اور ان کو ایک اچھا اور پرامن شہری بنانے کی مہارت سیکھائیں اور ہر ماہ پیرنٹس ٹیچرز ایسوسی ایشن کی میٹنگز ہونی چاہییں جس میں والدین کو بھی اس بات کا پابند بنایا جائے کہ سکول میں دی جانے والی تعلیم و تربیت کے بعد گھر میں بھی ان ہی (ایس او پی) پر بچوں سے عمل درآمد کروایا جائے تو یقینی طور پر آگے چل کر ہم ایک مثالی اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دے سکیں گے اور مستقبل میں سانحہ موٹروے جیسے واقعات بھی نہیں ہوں گے۔

Check Also

وزیراعظم کا ‏پینڈورا لیکس تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کا سیل قائم کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد – وزیراعظم عمران خان نے پینڈورا لیکس کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے